پنجاب، پاکستان کے مسلم معاشرے میں خواتین کو ستی کرنے کے نئے انداز

پنجاب، پاکستان کے مسلم معاشرے میں خواتین کو ستی کرنے کے نئے انداز
از قلم ڈاکٹر محمد رفیق الزمان
برصغیر میں اسلام کی آمد حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں مالابار اور سراندیپ کے علاقوں سے ہوئی، اور وقت کے ساتھ یہ مذہب یہاں پھیلتا گیا۔ اسلام سے قبل یہ خطہ ہندو مت اور بدھ مت کے زیر اثر تھا، اور ان مذاہب کے عقائد و روایات پورے معاشرے پر حاوی تھے۔ برصغیر، بالخصوص پنجاب کے لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر اسلام قبول تو کر گئے، مگر مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کو نہیں اپنا سکے۔ اس کا واضح ثبوت آج بھی پنجاب کے مسلم معاشرے میں عورت سے متعلق ہندو عقائدونظریات اور رسم و رواج کی گہری چھاپ ہے۔
مسلم معاشرے نے بظاہر رسم و رواج کا انداز بدلا، لیکن اپنی روایتی عادات کو ترک نہ کیا۔ جہیز کی لعنت، شادی بیاہ کی غیر اسلامی رسومات، جائیداد کی تقسیم، اور حقوقِ زوجیت کے معاملات میں علاقائی رسوم و رواج کو اسلام پر فوقیت دی جاتی ہے۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق شادی کے تمام اخراجات مرد کی ذمہ داری ہے، نکاح اور ولیمہ بنیادی رسومات ہیں، اور عورت پر کسی قسم کا مالی بوجھ نہیں۔ مزید برآں، اسلام عورت کو جائیداد میں مرد کے برابر حصہ، خلع کا حق، اور دوسری شادی کی سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ کوئی مطلقہ یا بیوہ عورت حقوق سے محروم نہ ہو اور معاشرتی مشکلات کا شکار نہ بنے۔ مگر بدقسمتی سے، مسلم معاشرہ ان اسلامی اصولوں پر عمل نہیں کرتا اور روایتی و علاقائی رسومات کا پیروکار ہے۔
پنجاب کی مسلم عورت آج بھی ہندو روایات کے زیرِ اثر اذیت میں مبتلا ہے۔ اسے ابتدا ہی سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جائیداد کا مطالبہ نہ کرے ورنہ میکے کے دروازے اس پر بند ہو جائیں گے۔ دوسری بیوی کو قبول نہ کرنا، عورت کی دوسری یا تیسری شادی کو معیوب سمجھنا، ہر ناجائز سلوک اور حق تلفی کو برداشت کرنا مگر شوہر سے علیحدگی اختیار نہ کرنا، اور بیوگی کی صورت میں تمام عمر شوہر کے نام پر زندگی گزارنا؛یہ سب رسمِ ستی کی جدید شکلیں ہیں۔
مسلم عورت ہر کردار میں ہندو معاشرتی اثرات کے تحت تربیت پا رہی ہے۔ اگر وہ بیٹی ہے تو جہیز کو اپنا حق سمجھتی ہے مگر جائیداد نہیں مانگتی، اگر بیوی ہے تو شوہر کی دوسری شادی کو برا سمجھتی ہے، اور اگر ماں یا ساس کا کردار نبھا رہی ہے تو بیٹے کے لیے جہیز کے ساتھ دلہن کا مطالبہ کرتی ہے۔ اپنی بیٹی کے لیے ایک سوچ اور بہو کے لیے دوسری۔ یہی وہ رسومات ہیں جو بیٹی کی پیدائش پر افسوس اور بیٹے کی پیدائش کے لیے دعاؤں کا سبب بنتی ہیں، مگر کبھی بیٹی کی پیدائش کے لیے دعا نہیں کی جاتی۔ پنجاب کے مسلمان ہمیشہ دعائیں بھی اولاد نرینہ کی کرواتے ہیں جس کی وجہ بیٹی کو مصیبت، بوجھاور دوسروں کا دھن سمجھنا ہے ، جب کہ اسلام میں بیٹی کو رب کی رحمت قرار دیا گیا ہے ۔
جب تک ہم عورت کے معاملے میں اسلامی تعلیمات کو نہیں اپنائیں گے، مسلم معاشرے کی عورت اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہے گی اور ہر دور میں نئے انداز سے ستی ہوتی رہے گی۔