امام حسین علیہ السلام علامت حق: محور عشق ومحبت

امام حسین علیہ السلام علامت حق: محور عشق ومحبت
ازقلم ڈاکٹر محمد رفیق الزمان
mrzmuslah@gmail.com
تعارف
حضرت امام حسین علیہ السلام حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے فرزند ارجمند اور نبی کریم ﷺ کے نواسہ ہیں۔ آپ کی والدہ مکرمہ کا نام سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرا ء سلام اللہ علیہا ہے ۔ آپ کے القابات سبط الرسول اللہ (رسول اللہﷺ کا نواسہ)، ریحانۃ الرسول اللہ(رسول اللہﷺ کا پھول)، سید الشباب اہل الجنۃ( اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار)ہیں۔ آپ 5 شعبان المعظم سن 4 ہجری کو پیدا ہوئے۔ آپ کے بڑے بھائی کا نام اما م حسن علیہ السلام ہے۔ آپ دونوں بھائیوں کو حسنین کریمین علیہم السلام کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کے تمام صاحبزادے بچپن میں ہی دنیا سے چلے گئےاس لیے نبی کریم ﷺ کی نسل سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہاکے بطن اطہر سے حسنین کریمین علیہم السلام کی صورت میں آگے بڑھی۔
مقام و مرتبہ بمطابق صحاح ستہ کتب
- حسین علیہ السلام گلی میں کھیل رہے تھے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں پکڑا ، ہنسایا اور بوسہ دیا اور فرمایا حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے۔(سنن ابن ماجہ :144 )۔ حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے( سنن ترمذی :3775)۔
- حسین رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے(صحیح بخاری :3748)
- رسول اللہﷺ نے ممبر پر چڑھ کر فرمایا میرا یہ بیٹا (حسن) سردار ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا (ترمذی:3773)
- حسن اور حسین علیہ السلام کے نام اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے خود رکھے(سلسلہ احادیث صحیحۃ:2765)
- آپ ﷺ نے فرمایا : ”بے شک فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے (سلسہ احادیث صحیحہ:1526)حسین علیہ السلام فاطمہ کے جسم کا ٹکڑا تھے۔
- حسن اور حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں (صحیح بخاری:3753، ترمذی :3770)
- رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو آدمی ہم اہل بیت سے بغض رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے گا (سلسلہ احادیث صحیحیہ: 3299ترقیم ققہی، ترقیم البانی: 2488،)
- رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلا رہا ہے ، اور محبت کرو مجھ سے اللہ کی خاطر ، اور میرے اہل بیت سے میری خاطر(سنن ترمذی :3789) ۔اللہ کی قسم ! کسی شخص کے دل میں ایمان اس وقت تک گھر نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ میرے اہل بیت سے اللہ کے واسطے اور ان کے ساتھ میری قرابت کی بناء پر محبت نہ کرے (سنن ابن ماجہ:140)
- نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو ایک کتاب اللہ اور دوسرا اہل بیت (مسلم:6225،ترمذی :3786،مشکوۃ المصابیح: 186،سلسلہ احادیث صحیحہ:320)
- سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عشاء ادا کر رہے تھے ، اچانک سیدنا حسن اور سیدنا حسین ؓ آپ کی پشت پر چڑھ گئے ۔ جب آپ سر مبارک اٹھاتے تو ان کو پیچھے سے نرمی سے پکڑ لیتے اور بڑی ہی شفقت سے ان کو زمین پر رکھ دیتے ۔ پھر جب آپ سجدہ کرتے تو وہ پھر چڑھ جاتے ۔ جب آپ ﷺ نماز پڑھ لیتے تو ان کو اپنی ران پر بٹھا لیتے ، یعنی ایک کو (ایک ران پر) اور دوسرے کو (دوسری ران پر) ۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں : میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں ان دونوں کو ان کی ماں کے پاس نہ لے جاؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”نہیں“ ۔ اتنے میں جب بجلی چمکنے لگی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”تم دونوں اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ ۔ “ پھر وہ بجلی کی روشنی میں چلتے رہے یہاں تک کہ اپنی ماں کے پاس چلے گئے ۔(سلسلہ احادیث صحیحیہ: 2538،ترقیم البانی :3325)
- انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : ” حسن اور حسین " آپ فاطمہ سے فرماتے : ” میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے۔(ترمذی:3772،)
- ایاس نے اپنے باپ (سیدنا سلمہ بن الاکو ع ؓ ) سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے اس سفید خچر کو کھینچا جس پر رسول اللہ ﷺ اور سیدنا حسن ؓ اور سیدنا حسین ؓ سوار تھے یہاں تک کہ ان کو لے گیا حجرہ نبوی تک ۔ ایک صاحبزادے آپ ﷺ کے آگے تھے اور ایک پیچھے ( مسلم :6260)
- ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے حسن وحسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ، اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی “(سنن ابن ماجہ :145)
- براء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حسن اور حسین ؓ کو دیکھا تو فرمایا :” اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما (سنن ترمذی:3782)
- ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں (سنن ترمذی:3768)
- اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، آپ ﷺ نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے ، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا : یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں ؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اورحسین تھے ، آپ ﷺ کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے ، پھر آپ نے فرمایا : ” یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں ، اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے (سنن ترمذی:3769)
- سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، اس حال میں کہ آپ کے ساتھ حسن وحسین بھی تھے ، ایک ایک کندھے پر تھا اور دوسرا دوسرے پر ۔ آپ کبھی ایک کا بوسہ لیتے اور کبھی دوسرے کو چومتے ، حتیٰ کہ ہمارے پاس پہنچ گئے ۔ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے کہا : آپ ان سے محبت کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے ان سے محبت کی ، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا ۔(سلسلہ احادیث صحیحیہ: 3290،ترقیم البانی :2895)
- سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو کسی جنتی آدمی کو دیکھ کر خوش ہونا چاہتا ہے ، وہ حسین بن علی کو دیکھ لے ۔“(سلسلہ احادیث صحیحیہ: 3289،ترقیم البانی :4003)
- سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں : جب میں سیدنا حسن ؓ کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں سے آنسو بہہ پڑتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنا منہ کھول کر اس کے منہ کو اپنے منہ میں داخل کیا ، پھر فرمایا : ”اے اللہ ! میں اسے محبت کرتا ہوں ، تو اس سے بھی اور اس سے محبت کرنے والے سے بھی محبت کر ۔ “(سلسلہ احادیث صحیحیہ: 3286،ترقیم البانی :2807)
- نبی کریم ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں (بخاری:4251، ترمذی :3712) ۔ جس کا میں مولا ہوں علی اس کا مولا ہے (احمد بن حنبل مسند:331،1206،ترمذی :3713، ابن ماجہ :121)۔ میں علم /حکمت کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ (ترمذی:3723، احمد بن حنبل :1081)۔ فاطمہ جنت کی اور امت کی عورتوں کی سردار ہیں(مشکوۃ المصابیح: 6171)۔فاطمہؓ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین ؓ اہل جنت کے جوانوں (یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان ) کے سردار ہیں(ترمذی: 3781)۔امام حسین علیہ السلام اس علی مولانبی کریم ﷺ کی لخت جگر سیدۃ النساء فاطمہ سلام اللہ علیہا کا بیٹا ہے۔
مذکورہ بالا احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام عالی مقام حسین علیہ السلام کا کیا مقام ومرتبہ ہے اور ہمیں کس حد تک ان سےپیار رکھنا چاہیے۔ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہے کہ ہم کس جگہ پر اور کیوں کھڑے ہیں؟ اگر دل میں محبت حسین کی جگہ نعوذباللہ بغض حسین نے لے لی تو یقینا ایسے دل کی جگہ جہنم کی آگ ہے۔ حسین علیہ السلام کا موازنہ ، مقابلہ ،تقابلی جائزہ صرف آپ کے بڑے بھائی امام حسن علیہ السلام سے کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ کسی سے موازنہ ،مقابلہ یا تقابلی جائزہجہالت کی انتہا ہےکیونکہ موازنہ و مقابلہ برابر کے لوگوں میں کیا جاتا ہے ۔ بھلا آقا اور غلام کا کیا مقابلہ؟، خون رسول ﷺ اورامتی رسول ﷺ کا کیا مقابلہ؟، فاطمہ کے جگر اور کسی دیگر بنت حوا کے جگر کا کیا مقابلہ؟۔ امام اور مقتدی کا کیا مقابلہ ؟۔جو حسین علیہ السلام سے محبت کر ے اللہ اس سے محبت کرتا ہےتو کیوں نہ ہم حسین سے عشق ومحبت اس طرح کریں کہ حسینیت زندہ رہے ،حسینی افکار زندہ رہیں،پیروکار زندہ رہیں۔ تاکہ اللہ اور اسکا رسول ﷺہم سے راضی ہو جائے۔
افکار امام حسین علیہ السلام
جب ظالم ، جابرحکمران انسانیت پر ظلم کرے ، بنیادی حقوق کو پامال کرے ، باطل کی ترویج کرے، حق کو دبائے، حدوداللہ کی پامالی کرے تب اس کے سامنے کلمہ حق کی آواز بلند کرنا حسینیت کہلاتا ہے۔ آپکے افکار میں حق وباطل میں فرق کرنا، حق کی آواز بلند رکھ کر جینا، باطل کے سامنے سر جھکانے کی بجائے سر اٹھا کے جینا، ظالم کو اس کے ظلم سے روکنا اور اس کے سامنے کلمہ حق کی صدا بلند کرنا، عدل وانصاف کو قائم کرنا ، جھوٹ نہ بولنا، معاملات میں عدل و انصاف قائم کرنا،حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھنا، ، دین اسلام ، اور شعار اسلام کی حفاظتکرتے ہوئے زندگی گزارنا،اسلامی فلاحی نظام کا پرچار کرنا، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے پیار کرنا، سخاوت کرنا، صدقہ و خیرات کرنا، ضرورت مند کی حاجت پوری کرنا، انسانیت کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، مخلو ق خدا سے پیار کرنا،رحم کرنا، معاف فرمانا ،بد خلقی سے بچنااور اخلاق حسنہ کو اپنانا شامل ہیں ۔چاہے آپ کو اس کے لیے کتنی ہی قربانیا ں کیوں نہ دینی پڑ جائیں۔ آپ نے اپنی تمام زندگی انہیں افکار کے ساتھ گزاری اور اسی پر قائم رہے ۔ واقعہ کربلاآپ کی شجاعت وبہادری، حق گوئی وبے باکی ، دلیری، شریعت محمدی اور نظام محمدی کی دعویداری و پاسداریاور ظالم ، غاصباور قابض حکمران کے سامنے ڈٹ جانے کی روشن دلیل ہے۔
شہادت امام حسین علیہ السلام کی پیشن گوئی
سیدہ ام فضل بن حارث فرماتی ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی اور حسین کو آپ کی گود میں رکھ دیا ۔ جب آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہوئی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کو کیا ہو گیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتلایا کہ میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کر دے گی ۔ “ میں نے کہا : یہ بیٹا (حسین) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”ہاں ، وہ میرے پاس اس علاقے کی سرخ مٹی بھی لائے ۔ “ (سلسلہ احادیث صحیحیہ: ترقیم الباني: 822 ترقیم فقہی: -- 3297)
عبداللہ بن نجی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ طہارت والے پانی کا برتن اٹھا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہے تھے، جب صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی مقام تک پہنچے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آواز دی: ابوعبداللہ! ٹھہر جاؤ، دریائے فرات کے کنارے ٹھہر جاؤ۔ میں نے کہا: ادھر کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، اس حال میں کہ آپ کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کسی نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟ آپ کی آنکھیں کیوں آنسو بہار ہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کی آمد سے قبل جبریل امین میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں، انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ حسین کو دریائے فرات کے کنارے قتل کر دیا جائے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے کہا: میں آپ کو اس کی مٹی کی خوشبو سونگھاؤں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پس اس نے اپنا ہاتھ لمبا کیا، مٹی کی مٹھی بھری اور مجھے دے دی۔ میں اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا اور رونے لگ گیا۔“(سلسلہ احادیث صحیحیہ: 3298،ترقیم البانی :1171)
امام حسین علیہ السلام وہ ہستیہیں جو نبی کریم ﷺ کی محبت وشفقت کا مرکز تھے جنہیں آپ بہت زیادہ پیار کرتے تھے ۔اسی لیے آپ ﷺ نے بار بار اپنی اہل بیت کے حوالے سے تاکید کی کہ ان سے محبت رکھی جائےاور ان کو اپنا مرکز ومحور سمجھا جائے تاکہ امت میں مرکزیت قائم رہے۔
شہادت امام حسین علیہ السلام علامت حق
امام حسین علیہ السلام آل نبی کریم ﷺ تھے جن سے محبت ایمان کا حصہ تھا جن سے بغض عذاب الہی کو دعوت تھی یہ سب جانتے ہوئے بھیسن 60 ہجری میںیزید نے آل رسول ﷺ و مومنین کے لیے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ جس میں کلمہ حق کی آواز بلند کرناناگزیر ہو گیا تھا۔لوگوں کوزبردستی اپنی بیعت کے لیے مجبور کیا جاتا انکار پر ان کا انجام موت ہوتاایسے میں تماماہل ریاست کسی ایسےبہادر حق گو کی منتظر تھی جو یزید کی ظلم وبربریت کے خلاف آواز بلند کرے ۔ یقینا ایسے مشکل حالات میں یہ کام نبی کریم ﷺ کا لخت جگر ہی کر سکتا تھا۔ امام حسین علیہ السلام جو کہ نبیﷺکے لخت جگر تھے نے کلمہ حق بلند کیا اور یزید کی بیعت سے علی الاعلان انکار کر دیا تاکہ اسلام اور اس کے نظام کو بچایا جا سکے ۔ظالموں نےمدینہ میں خون ریزی کرنے کا ارادہ کیا توآپ علیہ السلام نے مدینہ کو بچانے کے لیے 28 رجب یا 3 شعبان سن 60ہجری کو مکہ کی طرف ہجرت کی ۔ جب ظالموں نے مکہ میں بھی خون ریزی کا ارداہ کیا توآپ علیہ السلام نے دونوں امن کے شہروں مکہ اورمدینہ کو چھوڑا تاکہ ان پر امن شہروں میں کسی قسم کی خون ریزی نہ ہو کیونکہ آپعلیہ السلام جانتے تھے کہ یزید کے لیے مکہ اور مدینہ کی حرمت سے زیادہ اپنی بیعت اہمیت کی حامل ہے ۔ ۔ ایسی صورت حال میں آپ علیہ السلام نےرضائے الہی پر عمل کرتے ہوئے اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ8 ذی الحجہ سن 60 ہجری کو اہل کوفہ کی طرف سےان کی دعوت پر سفر شروع کر دیا ۔جبحضرت مسلم بن عقیل جو کہ کوفہ میں حالات و واقعات کا جائزہ لینے پہلے سے بھیجے ہوئے تھےکی شہادت کے ساتھ آپ پر اہل کوفہ کی خوف زدگیاور دھوکہ دہی واضح ہو گئی تو آپنے اپنا رخ کربلا کی طرف کر دیا ۔ کوفہ کے گورنر عبیداللہ ابن زیاد نے عمرو بن سعد کی قیادت میں آپ کو شہید کرنے کی غرض سے لشکر بھیجا ۔کربلا کے مقام پر آپ علیہ السلاماور یزیدی فوج کا آمنا سامنا ہو گیا ۔ امام عالی مقام علیہ السلام نے یزیدی فوج کو نبی کریم ﷺ کے فرمودات کے بارے میں سنایا اور اپنی نسبت اور مقام ومرتبہ کے بارے میں بتایا۔ مگر یزیدی فوج ماسوائے شہادت یا بیعت سے کم پر راضی نہ تھی ۔ آپ علیہ السلام نے ان پر واضح کیا کہ میرے ساتھخاندان کے بچے ،عورتیں و دیگر چند افراد ہیںجن کی کل تعداد 72 تھی ۔ ہم جنگ کرنے کی غرض سے نہ آئے ہیں ہم پر جنگ مسلط نہ کرو۔ مگر یزیدی فوج کا ایک ہی مطالبہ رہا کہ ظالم ،جابر،قابض،اورغاصب حکمران کی بیعت کی جائے ورنہ آپ پر جنگ مسلط کر کے آپ سب کو شہید کر دیا جائے گا ۔ اس پر آپ نے بیعت سے واضح انکار کر دیااور فرمایا کہہم شہید ہو جائیں گے مگرظالم کی بیعت نہ کریں گے۔ اس پر آپ پر جنگ مسلط کر دی گئی ۔آپ کے خیموں کا محاصرہ کیا گیا ، پانی بند کیا گیا۔ چھ ماہ کا علی اصغر ، نوجوان علی اکبر ، غازی عباس علیہم السلام کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا گیا ۔ بنو ہاشم کے 17افراد اور 50سے زائد اصحاب کو شہید کردیا گیا ۔آخر کار 10 محرم الحرام سن 61ہجری کو حضور کریم ﷺ کے جگرکے ٹکڑےکو شہید کر کے ان کا سر نیزے پر لٹکایا گیا ۔ شہیدوں کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی ۔ امام حسین علیہ السلام کے بیٹے امام زین العابدین علیہ السلام ، ہمشیرہ زینب بنت علی سلام اللہ علیہااور دیگر بچ جانے والے چند افراد کو قید کر لیا گیا ۔شہیدوں کے سروں کو نیزوں پر لٹکا کر کوفہ لے جایا گیا پھر امام عالی مقام علیہ السلام کا سر شام میں یزید کے دربار میں لایا گیا۔ جہاں یزید نے حکم بجا لانے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔اس طرح ظاہر ی طور پر وہ جیت گیا مگر حسین کا بیعت نہ کرنا اور شہادت قبول کرنا جیسے اعمالنے اسے ذلت آمیز شکستدی۔
حضرت سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس آئی ، وہ رو رہی تھیں ، میں نے پوچھا : آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ وہ بولیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے (یعنی خواب میں) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی ، تو میں نے عرض کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا : ” میں نے حسین کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے (ترمذی :3771)۔ جبریل امین کا حضور ﷺ کو بتایا ہوا واقعہ پور اہوا اور آپ ﷺ کے نواسہ کو شہید کر دیا گیا۔
قتل حسین نبی کریم ﷺ کو سخت ترین تکلیف دینے والا عمل تھا۔اسی لیے آپ ﷺ نے بار بار امت کو خبردار کیا کہ میری آل سے محبت کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اس سے جڑے رہو۔ قرآن مجید اور میری آل تمہاری راہنمائی کریں گے۔
حسینیت اور یزیدیت دو افکاردو نظریےاور دو فلسفے
امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور خاندان کی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اسلامی فکر، نظام ،نظریہاورفلسفہکو بچا لیا۔ حق وباطل کے اس معرکے میں جیت حق کی ہوئی ۔ یزیدیت اور حسینیت دو نظریوں ، دو سوچوں ،دو افکار،دو فلسفوں کا نام ہے ۔ حق کو دبانے والے ، استحصال کرنے والے، لوگوں کو مجبور و محصور کر کے اپنی بات منوانے والے،ان کے مال ، جان اور عزت و آبرو کے لٹیرے ،چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی یزیدیتکے پیرو کار ہیں۔ان کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے والے ، ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والے ، حق کے لیے مر جانے والے ،دوسروں کے مال ، جان اور عزت و آبروکی حفاظت کرنے والے ، ظالم کے دل میں عدل وانصاف و احتساب کا خوف دینے والےحسینیت کے پیرو کار ہیں۔ظلم، جبر،زیادتی ،حق تلفییزیدیت ہے اور عدل وانصاف و احتسابکو قائم کرناحسینیت ہے۔ حسینیت میں ہر ظالم ، غاصب ، قابض ، لٹیرہ جواب دہ ہوتا ہے جبکہ یزیدیت میں ظالم ، غاصب ، قابض اور لٹیرے کی من مرضی ہوتی ہے ۔ حسینیت میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا خیال رکھا جاتا ہے جبکہ یزیدیت میں حقوق العباد کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ اگر ہم دنیا و آخرت میں سرخرو ہونا چاہتے ہیں تو آل نبی ﷺ سے محبت کریں۔ آل نبی ﷺ سے محبت ایمان کی شرط ہےاور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے افکارونظریات پر عمل کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں عشق ومحبت کا محور امام عالی مقام حسین علیہ السلام کو بنائے اور ان کے افکار و نظریات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حوالہ جات
صحیح بخاری ، حدیث نمبر:3748،https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=1&hadith_number=3748
صحیح بخاری ، حدیث نمبر:3753 https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=1&hadith_number=3753
صحیح بخاری ، حدیث نمبر: 4251 https://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/T2/4251
صحیح مسلم ، حدیث نمبر: ترقیم عبدالباقی: 2408، ترقیم شاملہ: 6225 – https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=2&hadith_number=6225
صحیح مسلم ، حدیث نمبر: 6260 https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=2&hadith_number=6260
مشکوۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 186 https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=23&hadith_number=186
مشکوۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6171 https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=23&hadith_number=6171
سلسلہ احادیث صحیحہ ، حدیث نمبر: 2765https://quranohadith.com/silsila-sahih/2765
سلسلہ احادیث صحیحہ ، حدیث نمبر: عالمی:320، ترقیم:1761 https://quranohadith.com/silsila-sahih/320
سلسلہ احادیث صحیحہ ، حدیث نمبر: 3299 ترقیم فقہی، ترقیم البانی: 2488 – https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=10&hadith_number=3299
سلسلہ احادیث صحیحہ ، حدیث نمبر: ترقیم البانی: 3325، ترقیم فقہی: 2538 – https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith_other_tarqeem.php?bookid=10&hadith_number=3325
سلسلہ احادیث صحیحہ ، حدیث نمبر: ترقیم البانی: 4003، ترقیم فقہی: 3289 – https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith_other_tarqeem.php?bookid=10&hadith_number=4003
سلسلہ احادیث صحیحہ ، حدیث نمبر: ترقیم البانی: 2895، ترقیم فقہی: 3290 – https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith_other_tarqeem.php?bookid=10&hadith_number=2895
سلسلہ احادیث صحیحہ ، حدیث نمبر: ترقیم البانی: 2807، ترقیم فقہی: 3286 – https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith_other_tarqeem.php?bookid=10&hadith_number=2807
سلسلہ احادیث صحیحہ ، حدیث نمبر: عالمی:3298، ترقیم:1171 https://al-hadees.com/silsila-sahih/3298
سلسلہ احادیث صحیحہ ، حدیث نمبر: ترقیم البانی: 822، ترقیم فقہی: 3297 – https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith_other_tarqeem.php?bookid=10&hadith_number=822
سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر: 121 https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=4&hadith_number=121
سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر: 140 https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=4&hadith_number=140
سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر: 144 https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=4&hadith_number=144
سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر: 145https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=4&hadith_number=145
سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3712 https://mohaddis.com/View/Tarimdhi/T2/3712
سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3713 https://mohaddis.com/View/Tarimdhi/T2/3713
سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3723https://mohaddis.com/View/Tarimdhi/T2/3723
سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3769https://mohaddis.com/View/Tarimdhi/T2/3769
سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3770 https://mohaddis.com/View/Tarimdhi/T2/3770
سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3772 https://mohaddis.com/View/Tarimdhi/T2/3772
سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3773 https://mohaddis.com/View/Tarimdhi/T2/3773
سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3775 https://mohaddis.com/View/Tarimdhi/T2/3775
سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3781https://mohaddis.com/View/Tarimdhi/T2/3781
سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3782 https://mohaddis.com/View/Tarimdhi/T2/3782
سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3772https://mohaddis.com/View/Tarimdhi/T2/3772
مزید تفصیلات کے لیے حوالہ جات
۱۔تاریخ الطبری:
ابو جعفر محمد بن جریر الطبری کی کتاب تاریخ الرسل والملوک و اخبار الامم میں یزید کی بیعت سے انکار، امام حسین علیہ السلام کا سفرِ مکہ و کربلا، کوفہ کی دعوت، محاصرہ اور شہادت کے واقعات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ یہ کتاب دار احیاء التراث العربی، بیروت سے شائع ہوئی ہے اور متعلقہ واقعات جلد ۳–۴ کے صفحات ۳۸۷ تا ۴۱۲ میں ملتے ہیں۔ الطبری کے مطابق یہ واقعہ اس دور کے سیاسی اور مذہبی پس منظر کو واضح کرتا ہے اور تاریخی اعتبار سے سب سے معتبر مصادر میں شمار ہوتا ہے۔
۲۔البدایہ و النہایہ:
امام عماد الدین ابن کثیر کی کتاب البدایہ و النہایہ میں کربلا کے واقعے کو جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس میں یزید کی بیعت کا انکار، مدینہ و مکہ سے سفر، اہل کوفہ کی دعوت، اور لشکرِ یزید کے محاصرہ کی تفصیل موجود ہے۔ یہ کتاب دار الفكر، دمشق/بیروت سے شائع ہوئی ہے اور جلد ۸ کے صفحات ۲۲۹ تا ۲۶۰ میں یہ واقعات دستیاب ہیں۔ ابن کثیر نے تاریخی اور سندی لحاظ سے کربلا کے واقعات کی تفصیل بیان کی ہے۔
۳.الامالی:
شیخ الطوسی کی کتاب الامالی کربلا کے واقعات اور روایات پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس میں شہداء کی فہرست، امام حسین علیہ السلام کے اقدامات اور خاندان کے حالات شامل ہیں۔ یہ کتاب دار احیاء التراث العربی، بیروت سے شائع ہوئی ہے اور صفحات ۱۲۰ تا ۱۵۰ میں مذکورہ واقعات بیان ہوئے ہیں۔ الامالی میں روایتی اور تاریخی حوالوں کا امتزاج ملتا ہے جو واقعہ کربلا کو مکمل تصویر میں پیش کرتا ہے۔
۴۔الکامل فی التاریخ:
ابن اثیر الجزری کی کتاب الکامل فی التاریخ میں کربلا کی جنگ، خاندان اور اصحاب کی شہادت، اور اس واقعہ کا سیاسی پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب دار الفکر، بیروت سے شائع ہوئی ہے اور جلد ۶ کے صفحات ۲۵۴ تا ۲۸۲ میں یہ تفصیلات ملتی ہیں۔ ابن اثیر نے تاریخی اعتبار سے معتبر اسناد کے ساتھ کربلا کے حالات کو بیان کیا ہے، جو معاصر تاریخ دانوں کے لیے اہم مصدر ہے۔
۵۔بحار الانوار:
علامہ محمد باقر مجلسی کی کتاب بحار الانوار میں کربلا کے مفصل واقعات، شہداء کی فہرست، روایات اور بیانات شامل ہیں۔ یہ کتاب دارالکتاب الاسلامی، قم سے شائع ہوئی ہے اور جلد ۴۴–۴۶ کے صفحات ۱ تا ۳۵۰ میں مذکورہ مواد دستیاب ہے۔ بحار الانوار میں نہ صرف تاریخی تفصیل بلکہ روایتی حوالوں کا بھی احاطہ ہے، جو امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کو مکمل طور پر پیش کرتا ہے۔